عقل مند کون !
ایک تھا شہزادہ چھوٹے قد ، بری صورت والا جب کہ اس کے دوسرے بھائی لمبے قد والے اور خوب
صورت تھے۔
ایک مرتبہ بادشاہ اپنے بدصورت شہزادے کو حقارت سے دیکھ رہا تھا تو شہزادے نے یہ بات محسوس کر لی اور ادب سے کہا
ابا جان! چھوٹے قد والا عقل مند لمبے قد والے بے وقوف سے بہتر ہے اور چھوٹی جسامت والی چیز کی قیمت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔
اسی زمانے میں بادشاہ کی ایک سخت دشمن سے جنگ شروع ہو گئی ، دونوں طرف سے لشکر صف باندھے ہوئے لڑائی کے منتظر تھے، سب سے پہلے بادشاہ کی طرف سے لڑنے کے لئے نکلنے والا یہی شہزادہ تھا اور یہ کہہ رہا تھا: میں جنگ میں پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں، بل کہ لڑ کر جان دینے والوں میں سے ہوں۔ یہ بات کہہ کر دشمن کے سپاہیوں پر زور دار حملہ کر دیا اور دشمن کے چند بڑے آدمیوں کو قتل کر دیا،چوں کہ دشمن کے سپاہی بہت زیادہ تھے اور بادشاہ کے کم ، تو بادشاہ کے سپاہیوں کی ایک جماعت نے بھاگنے کا ارادہ کیا ، شہزادے نے یہ دیکھ کر ایک زور دار نعرہ لگایا اور ان کو غیرت دلائی کہ بزدل نہ بنو، بہادروں کی طرح لڑو۔ شہزادے کی اس بات سے ان کی غیرت کی رگ بھڑک اٹھی اور ایک مرتبہ میں مل کر ایسا حملہ کیا کہ دشمن کے سپاہیوں کے پیر اکھڑ گئے اور بادشاہ کے لشکر نے کامیابی حاصل کرلی۔ بادشاہ نے اپنے اس شہزادے کو پیار کیا اور گلے لگایا اور سمجھ گیا کہ میری حکومت کا صحیح اور مضبوط وارث یہی ہے نہ کہ دوسرے شہزادے، اس لئے اس شہزادے پر ہر دن محبت اور شفقت بادشاہ کی طرف سے بڑھتی رہی ، یہاں تک کہ اسے اپنا جانشین بنالیا۔ یہ دیکھ کر شہزادے کے دوسرے بھائی حسد کرنے لگے اور ایک روز اس کے کھانے میں زہر ڈال دیا، اللہ کی شان ! شہزادے کی بہن نے بالا خانہ کی کھڑکی سے یہ دیکھ لیا اور کھڑکی پر ہاتھ سے کھٹ کھٹ کی، شہزادہ سمجھ دار تھا، سمجھ گیا، کھانا نہیں کھایا اور کہا: یہ بات ناممکن ہے کہ اچھے لوگ مرجائیں اور برے لوگ ان کی جگہ حاصل کر لیں ، پھر بادشاہ کو بھائیوں کی اس حرکت کی خبر دی ، بادشاہ نے ان شہزادوں کو ڈانٹا اور سزا دی، اس کے بعد ان میں سے ہر ایک کو ملک کے مختلف شہروں کا حصہ دار بنا دیا۔ جس کے بعد سب ہنسی خوشی رہنے لگے ۔
فائدة: مشکل وقت میں اگر عقل مندی سے کام نہ لیا جائے تو بہت نقصان ہوتا ہے اور عقل مند ہونے کے لئے خوب صورت ہونا قد کا لمبا ہونا بالکل بھی ضروری نہیں، لہذا! آپ بھی ہر کام عقل مندی اور سوچ سمجھ سے کرنے کی عادت بنا ئیں۔

0 تبصرے